ایک چھوٹی یاد دہانی ذمہ داری کی - السلام علیکم
السلام علیکم، یہ کہانی میں نے ایک ریکوری میٹنگ میں سنی تھی۔ میں نے سوچا کہ شیئر کر دوں۔ ایک سنگل والد نے اپنے 6 سالہ بیٹے کو ویک اینڈ پر رکھا ہوا تھا، لیکن اس رات وہ اتنا نشے میں تھا کہ بس سونا چاہتا تھا۔ لڑکا خوشی سے بھرا ہوا تھا: "اباجی، چلیں یہ کریں! وہاں چلیں! پارک میں میرے ساتھ کھیلیں!" والد نے кофے کی میز پر ایک میگزین دیکھا جس کے سرورق پر زمین کی تصویر تھی۔ اس نے کہا، "ٹھیک ہے، دوست، میں تمہیں یہ بتاتا ہوں،" اور تصویر کو ٹکڑوں میں پھاڑ دیا، اور انہیں میز پر بکھیر دیا۔ "جب تم اسے دوبارہ جوڑ لو گے، تو ہم پارک جائیں گے۔" بیٹا خوشی سے کام کرنے لگا، خوش تھا کہ اس کا والد اس کے ساتھ کھیلے گا۔ والد نے اپنے کمرے میں جا کر ایک یا دو گھنٹے آرام کرنے کی امید کی۔ وہاں بیٹھے، شرمندگی سے، اس نے سوچا، "میں کیا کر رہا ہوں؟ وہ صرف میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہے اور میں تو بالکل بکھرا ہوا ہوں۔ مجھے اپنی زندگی کو سیدھا کرنے کی ضرورت ہے۔" پانچ سے دس منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ "ابا! ابا! میں ختم ہو گیا! میں نے کر لیا!" والد کو یقین ہی نہیں آیا۔ تصویر دوبارہ جوڑ دی گئی تھی۔ اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ وہ اتنی جلدی کیسے ہوا۔ لڑکے نے کہا، "ٹھیک ہے ابا، دنیا کی تصویر کے پیچھے ایک آدمی کی تصویر تھی۔ جب میں نے آدمی کو دوبارہ جوڑا، تو باقی سب کچھ اپنی جگہ پر آ گیا۔" اللہ ہمیں یاد دلاتا رہے کہ ہماری فیملیز کو ہماری ضرورت ہے، اور جب ہم اپنے آپ پر اور شوہر یا والد کے طور پر اپنی ذمہ داریوں پر کام کرتے ہیں، تو انشاء اللہ باقی زندگی بھی اپنی جگہ پر آ سکتی ہے۔