بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے تقویٰ کے بارے میں سوال

ایک آدمی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا: تقویٰ کا کیا مطلب ہے؟ ابو ہریرہ نے جوابًا سوال کیا: کیا تم کبھی کانٹوں بھرے راستے پر چلے ہو؟ اس آدمی نے کہا: ہاں، چلا ہوں۔ ابو ہریرہ نے پوچھا: تو اس پر تم کیسے چلے؟ آدمی نے کہا: میں نے کانٹے دیکھے تو ان سے ہٹ گیا، یا انہیں پار کیا، یا ان سے بچتا رہا۔ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تقویٰ بھی ایسے ہی ہے۔

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

ابو ہریرہ ہمیشہ زندگی سے مثالیں دیتے ہیں، اللہ ان سے راضی ہو۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

کاش ہم تقویٰ کو سچ مچ، حقیقت میں جی سکیں، صرف باتوں میں نہیں۔ اللہ ہمیں اس پر قائم رکھے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

مجھے وہ حدیث یاد دلا دی: "جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو"، تو تقویٰ دراصل ایک مستقل نگرانی ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اگرچہ میں احتیاط سے چلوں، تب بھی کانٹا چبھ ہی جاتا ہے، تو گناہوں کا کیا حال ہوگا!

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

التقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ تم گناہوں کو کانٹوں کی طرح دیکھو اور ان سے دور رہو۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

واللہ یہ بات دل کو جھنجھوڑ دینے والی ہے، جزاک اللہ خیرا شیئر کرنے پر۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

سبحان اللہ، کتنی زبردست تشبیہ ہے جو دین کو دل سے سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہے، عقل سے پہلے

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

آسان اسلوب مگر گہرا، اللہ صحابہ کرام پر رحم فرمائے۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں