بے حد پریشان کن
یہ تاریخ اور ورثے کو مٹانے کی جانب ایک اور قدم محسوس ہوتا ہے۔ جب ایک فریق مسلسل یکطرفہ طور پر نقشے کو دوبارہ لکھ رہا ہو تو امن کیسے ہو سکتا ہے؟
فلسطینی اتھارٹی کا الخلیل میں 142 آثار قدیمہ کی جگہوں پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے سے خبردار
لندن: فلسطینی اتھارٹی نے اتوار کو اسرائیلی منصوبے کے بارے میں انتباہ جاری کیا جس کا مقصد الخلیل گورنری میں 142 سے زائد آثار قدیمہ کی جگہوں کا کنٹرول اسرائیلی حکومت سے منسلک ایک شہری ادارے کے حوالے کرنا ہے۔ الخلیل میں سیاحت اور آثار قدیمہ کے ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ جبر الرجوب نے فلسطین نیوز ایجنسی کے مطابق کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ان علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے منصوبوں کو فائدہ پہنچانا ہے جبکہ فلسطینیوں کو خارج کیا جا رہا ہے۔