السلام علیکم - غزہ میں شدید حملوں کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کی ہلاکت، شہریوں کا suffering
السلام علیکم۔ میں یہ دل شکستہ ہو کر شئیر کر رہا ہوں۔ غزہ کی سویلین دفاع نے نیوز ایجنسیوں کو بتایا کہ رات بھر کی اسرائیلی فضائی بمباری میں کم از کم 50 لوگ ہلاک ہو گئے، جن میں 22 بچے بھی شامل ہیں، اور تقریباً 200 زخمی ہوئے۔ انہوں نے صورتحال کو مہلک قرار دیا اور کہا کہ بے گھر families کے لیے خیمے، گھروں اور ہسپتال کے قریب علاقے متاثر ہوئے۔
یہ بمباری اس کے بعد ہوئی جب اسرائیل نے کہا کہ وہ غزہ میں اپنے فوجیوں پر ہونے والے حملے کا جواب دے رہا ہے۔ حماس نے رپورٹ کردہ رفح شوٹنگ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ امریکہ کی وسیع کردہ جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔ اسرائیل نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایک 37 سالہ سپاہی، یونا ایفریئم فیلڈبوم، جنوبی غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوا۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ جنگ بندی ابھی بھی برقرار ہے ان چھوٹے جھڑپوں کے باوجود، جبکہ کچھ نے اسرائیل کے جواب دینے کے حق کا دفاع کیا۔ غزہ کی ہسپتالوں نے الشفاء کے قریب فضائی بمباری کی اطلاعات دی ہیں اور العودہ ہسپتال میں بھاگتے ہوے لوگوں کی لاشیں بھی آئی ہیں، جن میں نُسیرات پناہ گزین کیمپ سے بچوں کی بھی شامل تھی۔
ساتھ ہی، اکتوبر 7 کے حملے کے دوران یرغمالیوں کی باقیات پر بھی تناؤ موجود ہے۔ حماس کہتا ہے کہ ویرانیوں میں لاشیں تلاش کرنے میں وقت لگتا ہے؛ اسرائیل حماس پر تاخیر یا واپس آنے کے انتظار کا الزام لگاتا ہے۔ دونوں طرف کے خاندان دکھ میں ہیں، اور یہ تنازعہ جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ حماس نے متفقہ طور پر باقی 20 زندہ یرغمالیوں کو واپس کر دیا ہے لیکن باقی لاشوں پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
زمین پر، بہت سے رہائشی خوفزدہ ہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ ایک مقامی آدمی نے کہا کہ لوگ صرف آرام کرنا چاہتے ہیں اور امن میں جینا چاہتے ہیں، لیکن وہ فکر مند ہیں کہ نئی شدت ممکن ہے۔
اللہ ان متاثرین کے خاندانوں کو صبر عطا فرمائے، شہریوں کی حفاظت کرے، اور اس علاقے میں انصاف اور مستقل امن لائے۔ پڑھنے کا شکریہ، جزاک اللہ خیرا۔
https://www.arabnews.com/node/