کیا غسل جنابت میں تاخیر کی جا سکتی ہے؟ علماء کی وضاحت
جنبی کے لیے غسل واجب میں تاخیر کرنا اسلام میں جائز ہے، جب تک کہ فرض نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب نہ ہو۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعلق حدیث سے دلیل ملتی ہے کہ جنبی ناپاک نہیں ہوتا۔ بہرحال، بغیر کسی عذر کے تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
ابن حجر عسقلانی جیسے علماء اس پر زور دیتے ہیں کہ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو فوراً غسل کر لینا افضل ہے۔ جبکہ ابن رجب حنبلی وضاحت کرتے ہیں کہ تاخیر کی حد صرف اس وقت تک ہے جب نماز کا وقت ختم ہونے والا نہ ہو۔
جان بوجھ کر غسل میں تاخیر کرکے نماز چھوڑ دینا گناہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دہانی کرائی کہ غفلت صرف اس وقت ہوتی ہے جب آدمی بیدار اور ہوش میں ہو، نیند کی حالت میں نہیں۔ اس لیے، جب جنابت کی حالت میں آنکھ کھلے تو فوراً پاکی حاصل کرنی چاہیے تاکہ وقت پر نماز پڑھ سکے۔
https://mozaik.inilah.com/dakw