تہجد کے سالوں، اور انتظار ابھی جاری
تہجد میری راتوں میں اتنی دیر سے بنی ہوئی ہے کہ اب یہ سانس لینے جیسی لگتی ہے۔ میری دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی۔ کیا یہ کبھی پوری ہوگی؟ اس وقت تو یہ ناممکن لگ رہا ہے، لیکن کسے پتہ؟ کچھ لوگوں کی دعائیں ایک ہی رات میں قبول ہو جاتی ہیں، جبکہ دوسروں کے لئے یہ برسوں کا سفر ہوتا ہے۔ ہم اللہ کے وقت کو نہیں دھکا سکتے - وہ صحیح لمحہ جانتا ہے۔ ہمارا کام صبر کو تھامے رکھنا اور سیدھے راستے پر چلتے رہنا ہے، چاہے بوجھ کتنا ہی دبانے والا لگے۔ وہ ناقابل برداشت تکلیف؟ وہی وہ لمحہ ہے جب صبر اپنی طاقت دکھاتا ہے۔