گورنر بی آئی پیری وارجیو مستعفی، ماہر معاشیات کو سیاسی دباؤ کا شبہ
بینک انڈونیشیا (بی آئی) کے گورنر پیری وارجیو نے اپنی مدت کے دوران ہی استعفیٰ دے دیا جو مئی 2028 میں ختم ہونی تھی۔ سینٹر آف اکنامک اینڈ لا اسٹڈیز (سیلیوس) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھیما یودھیستیرا نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی دباؤ کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق، مالیاتی شعبے پر دباؤ 2025 کے آخر میں روپے کی کمزوری کے بعد سے ہی محسوس کیا جا رہا تھا۔
بھیما نے وضاحت کی کہ مالیاتی مسائل جیسے کہ بجٹ خسارے میں اضافہ، بڑے بجٹ کے منصوبے جن کی منصوبہ بندی میں مسائل ہیں، ٹیکس وصولیوں میں کمی، اور حکومتی قرضوں میں اضافہ سرمایہ کاروں کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ تاہم، بی آئی کو سرمایہ کاروں کے اعتماد اور روپے کی قدر میں کمی کا سب سے بڑا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
اس استعفے کو پی2ایس کے قانون اور پی ایف آئی آئی قانون میں ترامیم سے بھی جوڑا جا رہا ہے جس سے زر مبادلہ کی نگرانی اور انتظام میں بی آئی کے اختیارات کم ہو گئے ہیں۔ بھیما کا خیال ہے کہ مالیاتی حکام کی طرف سے مانیٹری پالیسی میں مداخلت حد سے بڑھ چکی ہے اور اب یہ ہم آہنگی کی شکل نہیں رہی۔
https://www.harianaceh.co.id/2