جب علم دولت اور اقتدار سے زیادہ طاقتور ہو: امام اعمش کی مجلس سے سبق
عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ، جو ایک تابعی عالم تھے، نے ایک نایاب منظر دیکھا: امام اعمش کی مجلس میں حکمران اور مال دار لوگ خود کو بے وقعت محسوس کر رہے تھے، حالانکہ وہ خود تنگ دستی کی حالت میں تھے۔ اعمش (وفات 148 ہجری) حدیث اور قرآن کے بڑے امام تھے، سفیان ثوری جیسے علما کے استاد، جن کا رعب خلوص، علم پر عمل، اور علم کو اقتدار کی سیڑھی نہ بنانے کی وجہ سے بے مثال تھا۔
ان کی مجلس کا رعب اس دل سے پیدا ہوتا تھا جو مخلوق پر بھروسا نہیں کرتا تھا، اس لیے نہ مال کے آگے جھکتا تھا نہ عہدے کے آگے۔ اسلاف جیسے امام احمد، امام مالک، اور امام شافعی بھی علم کو دنیاوی مداخلت سے پاک رکھتے تھے۔ جدید دور میں یہ چیز ان مجالس علم کے لیے ایک تنقیدی آئینہ ہے جو شہرت اور اقتدار سے قربت کے پیچھے بھاگتی ہیں۔
اہم سبق: علم کا رعب خلوص سے پیدا ہوتا ہے، علم حکمرانوں تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں ہے، اور حق کو خریدا نہیں جا سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، "علما انبیا کے وارث ہیں؛ وہ علم کا ورثہ پاتے ہیں، دینار و درہم کا نہیں۔" اللہ اعمش پر رحم فرمائے اور ایسے علما کی نسل عطا کرے جن کے پاس حقیقی علمی رعب ہو۔ آمین۔
https://www.harianaceh.co.id/2