اللہ کی رحمت بہت وسیع: حماد بن سلمہ اور سفیان ثوری کا قصہ
میں نے امام حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کے بارے میں ایک خوبصورت حکایت سنی، جب وہ ایک دن امام سفیان ثوری سے ملنے گئے۔ سفیان نے دل سے ایک سوال پوچھا: "اے ابو سلمہ، کیا آپ کو لگتا ہے ہمارا رب مجھ جیسے کو معاف کر دے گا؟" سوچو ذرا، سفیان ثوری جو عابد و زاہد تھے، اپنے گناہوں سے ڈر رہے ہیں! حماد نے پورے اعتماد سے جواب دیا: "اللہ کی قسم، اگر مجھے اختیار دیا جائے کہ حساب کتاب اللہ کے سامنے کروں یا اپنے والدین کے سامنے، تو میں ضرور اللہ کا حساب چنوں گا، کیونکہ وہ سبحانہ مجھ پر میری ماں اور باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔" یہ بات ہمیں اللہ کی اس رحمت کی یاد دلاتی ہے جس کی کوئی حد نہیں، یہاں تک کہ وہ ہمارے سب سے قریبی لوگوں سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو، چاہے گناہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں، وہ کریم اور پردہ پوش رب ہے۔