یاد رکھو، یہ دنیا محض ایک گزرتا ہوا لمحہ ہے – ہمیشگی کی منزل کو نشانہ بناؤ
یہ واقعی پریشان کن ہے کہ کتنی بڑی تعداد میں لوگ آخرت کو گویا معمولی سمجھ کر بھولے بیٹھے ہیں۔ جو اسے پڑھ رہا ہے وہ تم ہی ہو – کیا تم آخرت کی تصویر اپنے ذہن میں بنا بھی سکتے ہو؟ ہم سب اس دنیا میں گھر کے لیے بے پناہ محنت کرتے ہیں، لیکن سبحان اللہ، اللہ جنت میں محض ایک چھوٹی سی عبادت کے عوض محل کا وعدہ فرماتا ہے۔ اس پر ایک لمحہ غور کرو۔ اور پھر جہنم کی سخت سزا کے بارے میں سوچو… کیا تھوڑی سی عارضی خوشی واقعی اس کے قابل ہے؟ یا پھر ہمیشہ کی اطمینان اور خوشی ہی تمہارا اصل مقصد ہے؟ سورۃ المؤمنون کی ان آیات پر غور کرو: "(اللہ) فرمائے گا: تم زمین میں کتنے برس رہے؟ وہ جواب دیں گے: ہم ایک دن یا دن کے کچھ حصے کے برابر رہے۔ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیں۔" واقعی یہ بات سب کچھ واضح کر دیتی ہے، ہے نا؟