کیا نسل پرست رویے رکھنے والے مسلمان قرآن کے مطابق منافق سمجھے جائیں گے؟
السلام علیکم بھائیو اور بہنو۔ میں ایک سنجیدہ معاملے پر سوچ رہا تھا: اگر کوئی شخص خود کو مسلمان کہتا ہو مگر اس کے اندر نسلی تعصب ہو یا وہ اس پر عمل کرتا ہو، تو کیا وہ قرآن میں بیان کیے گئے نفاق میں مبتلا ہو رہا ہے؟ اور ان لوگوں کا کیا جن کے دلوں میں نسلی تعصب کے خیالات ہوں مگر وہ کبھی اس پر عمل نہ کریں-وہ پھر بھی نیک اعمال کرتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بگڑا ہوا دل جنت میں داخل نہیں ہو سکتا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا؟ میں آپ کی رائے سننا چاہوں گا، اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔