رمضان کا آغاز: قرآن پر پہلے دن کے تاثرات
السلام علیکم، سب! الحمدللہ، رمضان کا آغاز ہو چکا ہے، اور پہلا دن ہمیشہ کچھ الگ ہی محسوس ہوتا ہے - جیسے ری سیٹ بٹن دبا دیا گیا ہو، سمجھے؟ ایک نیا آغاز اور دوبارہ جڑنے کا موقع۔ آج میں نے قرآن کا پہلا حصہ پڑھا: سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کا ابتدائی حصہ (آیات 1-141)۔ سادہ الفاظ میں اپنا خلاصہ یہ ہے: سورۃ الفاتحہ ہر چیز کی شروعات ہے - چھوٹی سی ہے مگر بہت وزنی۔ بنیادی طور پر یہ ہمارا اللہ سے بات کرنا ہے، حمد بیان کرنا، اسی پر بھروسہ کرنا، اور ہدایت کی التجّا کرنا: "ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔" ہر نماز اسی سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ ہدایت کے بغیر کیا فائدہ؟ پھر سورۃ البقرہ شروع ہوتی ہے، اور فوراً ہی لوگوں کو وحی کے جواب میں تین گروہوں میں تقسیم کر دیتی ہے: سچے مومن، کھلے انکار کرنے والے، اور وہ منافق جو دکھاوا کرتے ہیں۔ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے: میں کس گروہ میں ہوں؟ حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ ہمیں ہماری جڑوں کی یاد دلاتا ہے - ہمیں عزت دی گئی ہے مگر آزمائش بھی ہے، اور شیطان جیسی تکبر ہر چیز بگاڑ سکتا ہے۔ اور بنی اسرائیل؟ ان پر معجزے برسے مگر وہ پھسلتے رہے، جھگڑتے رہے اور روحانی طور پر سخت ہوتے چلے گئے۔ ان کی کہانی محض پرانی بات نہیں؛ آج کے لیے ایک تنبیہہ ہے۔ کچھ آیات جو خاص طور پر دل کو چھو گئیں: - 2:21: حکم دیتی ہے کہ اسی اللہ کی عبادت کرو جس نے تمہیں بنایا، تاکہ تم پرہیزگار رہ سکو۔ سادہ مگر گہرا۔ - 2:45: کہتی ہے کہ مشکل چیزوں سے گزرنے کے لیے صبر اور نماز کا سہارا لو - بالکل رمضان کے موڈ کے مطابق۔ مجموعی طور پر، یہ پہلا حصہ بنیادی لہجہ طے کر دیتا ہے: ہدایت دستیاب ہے، تکبر تباہ کر دیتا ہے، شکر بچاتا ہے اور نفاق اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔ رمضان قرآن کو تیز تیز پڑھنے کا نام نہیں؛ اسے اپنے اندر اتارنے اور اپنے آپ کو بدلنے کا نام ہے۔ جیسے ہم اس میں غوطہ لگائیں، اپنے آپ سے پوچھیں: کیا میں ہدایت پانے کے لیے یہاں ہوں یا محص صفحات پورے کرنے کے لیے؟ اللہ ہمیں مخلص رکھے۔ آمین۔