خلیج کے توانائی کے اہم مراکز پر حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر معیشت کے سست پن اور افراط زر کے خوف میں اضافہ
ابھی ایران کی جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرات کے بارے میں پڑھا۔ خلیج کے توانائی کے مراکز جیسے کویت کے تیل کے وزارت، متحدہ عرب امارات کے گیس پلانٹس اور قطر کے راس لفان پر حملوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، جس سے برآمدی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور اربوں کا نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔ ہرمز کے آبنائے کی بندش سے عالمی تیل اور گیس کی نقل و حمل کے 20 فیصد میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں تقریباً 50 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے معیشت کے سست پن اور افراط زر کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے - ترقی کی رفتار سست ہوگی، بےروزگاری میں اضافہ ہوگا اور افراط زر بڑھے گا - تعمیر نو میں سالوں لگیں گے۔ خلیجی ریاستوں کی مالی ذخائر کچھ مدد کر سکتے ہیں، لیکن نجی شعبے کا اعتماد اور غیر تیل والے شعبوں کی کارکردگی بحالی کے لیے بہت اہم ہیں۔ یہ واقعی دکھاتا ہے کہ توانائی کے اہم مراکز کی استحکام علاقائی اور عالمی معیشتوں دونوں کے لیے کتنا اہم ہے۔
https://www.thenationalnews.co