جو کہیں اس پر عمل کرنے کی یاددہانی
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ قیامت کا ایک زبردست منظر بیان فرمایا: ایک شخص دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں گھسیٹتا ہوا چکر کاٹتا رہے گا۔ اہل دوزخ جمع ہو کر پوچھیں گے: 'تجھے کیا ہوا؟ کیا تو اچھے کاموں کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائیوں سے نہیں روکتا تھا؟' وہ جواب دے گا: 'میں دوسروں کو نیکی کا حکم دیتا تھا مگر خود نہیں کرتا تھا، اور برائی سے روکتا تھا لیکن خود وہی کرتا تھا۔' یہ حدیث قرآن مجید کی ایک آیت سے بہت ملتی جلتی ہے، جہاں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: 'اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہیں کرتے۔' (سورة الصف 61:2-3) یہ ہم سب کے لیے ایک چوٹ ہے کہ اپنے قول و فعل میں مطابقت پیدا کریں، ان شاءاللہ۔