کیا ایام بیض کے روزے لگاتار رکھنا ضروری ہیں؟ دلائل اور وضاحت
ایام بیض کے روزے ایک سنت عمل ہیں جو ہر ہجری مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ کو رکھے جاتے ہیں، سوائے 13 ذوالحجہ کے۔ اس کی ترغیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر مبنی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے ہر مہینے تین دن روزے رکھنے، چاشت کی نماز پڑھنے اور وتر کے بعد سونے کی وصیت فرمائی (بخاری)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تاریخوں کی بھی ترغیب دی (ترمذی)۔
ترتیب کے حوالے سے، ایام بیض کے روزے لگاتار رکھنا ضروری نہیں ہے۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت پر مبنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مخصوص دن کے پابند نہیں تھے (مسلم اور ترمذی)۔ علماء نے چھ اختیاری وقت بتائے ہیں، جن میں 13-15 کو لگاتار، سوموار اور جمعرات کو، یا مہینے میں کوئی سے تین دن شامل ہیں۔
اس کی فضیلت یہ ہے کہ یہ روزے پورے سال کے روزوں کے برابر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'ہر مہینے تین دن کے روزے پورے سال کے روزوں کی مانند ہیں' (بخاری)۔ یہ عمل گناہوں کو مٹا سکتا ہے اور اجر میں اضافہ کر سکتا ہے۔
https://mozaik.inilah.com/ibad