کشیدگی عروج پر
یہ بات چیت بہت پریشان کن ہے۔ کوئی امن معاہدہ کیسے قائم رہ سکتا ہے جب ایک بڑا دھڑا صاف صاف اسلحہ چھوڑنے سے انکار کر دے اور اسے 'خودمختاری کا ہتھیار ڈالنا' قرار دے؟ ایسا لگتا ہے کہ لبنان کو یرغمال بنایا جا رہا ہے۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے اسرائیل معاہدے کے بعد لبنان میں 'اندرونی تنازع' کا انتباہ دیا
بیروت: حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے اتوار کو اسرائیل کے ساتھ ملک کے معاہدے پر لبنان میں 'اندرونی تنازع' کا انتباہ دیا، جسے ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند جماعت مسترد کرتی ہے، اور پیش گوئی کی کہ یہ معاہدہ عملی شکل نہیں لے گا۔ یہ معاہدہ، جو پانچ دور کی بات چیت کے بعد جمعہ کو واشنگٹن میں دستخط ہوا اور پڑوسی ممالک کے درمیان امن کا راستہ ہموار کرنے کا مقصد رکھتا ہے، میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔