امریکی-ایرانی امن معاہدے کے مسودے پر تنقید بہ اسلوب ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی اندرونی تنقید کے درمیان ایران کے ساتھ امن معاہدے کے مسودے کا دفاع کیا۔ یہ مسودہ متنازع ہے کیونکہ اس میں ایران کے جوہری مسئلے کے حل کو مؤخر کرتے ہوئے مزید مذاکرات کے لیے 60 دن کی جنگ بندی کی مدت دی گئی ہے، اور آبنائے ہرمز کے معاملے کو 30 دن کے مذاکراتی دور میں لٹکا دیا گیا ہے۔ ایران کے سینیئر ذرائع نے تردید کی کہ جوہری معاملہ موجودہ معاہدے کا حصہ ہے، اور ایران کے سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کے دعوؤں کو 'حقیقت کے خلاف' قرار دیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 'وقت ہمارے ساتھ ہے'، لیکن حقائق یہ ہیں کہ جنگ کی وجہ سے امریکی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اور وسط مدتی انتخابات سے پہلے ان کی معاشی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ناقدین اس معاہدے کو موقع پرستانہ اور خامیوں سے بھرا ہوا کہتے ہیں، یہ کوئی 'بڑا سودا' نہیں بلکہ ایک کمزور مفاہمتی یادداشت ہے۔
سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے چیئرمین روجر وکر نے 60 دن کی جنگ بندی کو 'تباہی' قرار دیا، جبکہ سینیٹر لنڈسے گراہم نے اسے 'اسرائیل کے لیے ڈراؤنا خواب' بتایا۔ سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے مشابہت رکھتا ہے اور 'امریکہ فرسٹ' کے اصول کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ آبنائے کھولے اور ایران کو بغیر کسی شرط کے کمزور کرے۔
اس مسودے کو ایک اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائی پائیدار نہیں ہے اور جوہری سرخ لکیریں قابل مذاکرات ہیں، جس سے امریکی تزویراتی اعتبار میں کمی کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔
https://www.harianaceh.co.id/2