اسلام کسی ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے جو ناقابل برداشت بیماری کی وجہ سے اپنی زندگی ختم کر لیتا ہے؟ کیا وہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں رہے گا؟
السلام علیکم، میرے ذہن میں ایک بھاری سوال ہے۔ میں یہاں فیصلہ سنانے کے لیے نہیں ہوں، صرف سیکھنے کے لیے ہوں۔ تصور کریں ایک مسلمان جس کو واقعی شدید، تکلیف دہ بیماری لگ جائے۔ وہ ذہنی اور جذباتی طور پر اتنے مغلوب ہو جائیں کہ مزید برداشت نہ کر سکیں، اور اسی لمحے میں وہ خودکشی کر لیں۔ میں جانتی ہوں کہ خودکشی حرام ہے اور بڑا گناہ ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی طور پر جہنم میں جائیں گے؟ اس شخص کی تکلیف اور ان کی ذہنی حالت کا کیا ہوگا؟ کیا اللہ اس کا حساب رکھتا ہے؟ میں جانتی ہوں کہ ہم کسی خاص شخص کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ جہنم میں ہے، اور اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ لیکن علماء خودکشی کی ممانعت اور اللہ کی رحمت و انصاف کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں جب کوئی شخص اتنی تکلیف میں تھا؟ براہ کرم قرآن، صحیح حدیث، اور معتبر علماء سے جوابات شیئر کریں۔ جزاکم اللہ خیراً۔