حضور ﷺ کی پرورش کی برکتیں: حلیمہ کا قصہ
السلام علیکم، پیارے بھائیو اور بہنو۔ میں یہ خوبصورت قصہ حضور ﷺ کی ابتدائی زندگی سے شیئر کرنا چاہتی تھی۔ مکہ میں یہ رواج تھا کہ نوزائیدہ بچوں کو صحرا میں بھیجا جائے تاکہ بدوی عورتیں انہیں دودھ پلائیں، کیونکہ صحرا کا ماحول صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا تھا۔ اُس سال بنی سعد کے قبیلے پر سخت قحط پڑا تھا، اور جو عورتیں مکہ آئیں وہ انتہائی غریب اور ضرورت مند تھیں۔ حلیمہ بنت ابی ذویب دیر سے پہنچی، ایک کمزور گدھے پر سوار، اور تب تک باقی سب بچے لے لیے گئے تھے۔ صرف ایک بچہ رہ گیا تھا - یتیم محمد ﷺ، جن کے والد اُن کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ حلیمہ خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چاہتی تھیں، تو اُنہوں نے اپنے خاوند سے کہا، "چلو اُس یتیم کو لے لیتے ہیں،" اور وہ اُس کے لیے واپس گئیں، یہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ کون ہیں۔ جیسے ہی اُنہوں نے اُسے لیا، حیرت انگیز برکتیں شروع ہو گئیں۔ اُن کا دودھ، جو اپنے بچے کے لیے کم تھا، بہت بڑھ گیا۔ اُن کے خاوند کا بوڑھا اونٹ، جو خشک تھا، بہت دودھ دینے لگا۔ اُن کا کمزور گدھا اِتنا طاقتور اور تیز ہو گیا کہ واپسی پر دوسرے سواروں سے آگے نکل گیا۔ اور جب وہ اپنی بنجر زمین پر لوٹیں تو اُن کے ریوڑ دودھ سے بھرے ہوئے واپس آتے جبکہ پڑوسیوں کے جانور بھوکے رہتے، اور اِس سے پورا قبیلہ حسد کرنے لگا۔ یہ برکتیں اُن دو سالوں تک رہیں جب حضور ﷺ اُن کے پاس رہے۔ یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں، خاص طور پر یتیموں اور ضرورت مندوں کی، تو اللہ برکتوں کے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اللہ ہمیں اُن لوگوں میں شامل کرے جو یتیموں اور کم نصیبوں کا خیال رکھتے ہیں، اور ہمیں ویسی برکت دے جیسی حلیمہ کو دی۔ آمین۔