دورِ حاضر کے بحران میں علماء بطور وارثِ انبیاء کی اہمیت
جملہ "العلماء ورثۃ الانبیاء" یا علماء انبیاء کے وارث ہیں، صرف ایک مذہبی خطاب نہیں بلکہ ایک بڑی امانت ہے۔ بشیری، جو زاویہ شیخونا محمد خلیل بنگکلان میں مدرس ہیں، وضاحت کرتے ہیں کہ انبیاء کی وراثت مال و دولت نہیں بلکہ علم ہے، جیسا کہ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے۔
بشیری کے مطابق، نبی کے وارث کا رتبہ علم اور امت کے لیے فائدہ مند عمل کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ علماء کا کام رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جاری رکھنا، لوگوں کو اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی کرنا، اور جدید دور کے مسائل جیسے ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کا شریعت کے اصولوں سے انحراف کیے بغیر جواب دینا ہے۔
علماء کا کردار ملکی زندگی میں بھی اہم ہے، یعنی حکمرانوں کے ساتھ رہ کر انہیں معاشرے کی بھلائی کے لیے مشورے دینا۔ یوں، نبی کے وارث بننے کا مطلب دینی علم کی حفاظت، اس پر عمل کرنے اور اسے پہنچانے کی پوری ذمہ داری قبول کرنا ہے۔
https://mozaik.inilah.com/dakw