اسباب نزول اور تفسیر سورہ المائدہ آیت 48
اسباب نزول سورہ المائدہ آیت 48 یہودیوں کی اس عادت سے جڑا ہے کہ وہ تورات کے مواد میں ہیرا پھیری کرتے تھے۔ وہ اس کے معانی اور احکام بدل دیتے، جیسے زنا کے لیے رجم کی سزا کو کوڑوں میں بدلنا۔ جب انہیں نبی محمد ﷺ کے پاس بھیجا گیا تو انہوں نے وصیت کی کہ صرف وہی فتویٰ قبول کریں جو ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے پھر یہ آیت نازل فرمائی تاکہ اس بات پر زور دیا جا سکے کہ قرآن حق کا حامل اور پچھلی کتابوں کی تکمیل کرنے والا ہے۔
آیت 48 اس بات پر زور دیتی ہے کہ قرآن پچھلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا اور ان کا محافظ ہے۔ نبی محمد ﷺ کو اللہ کی وحی کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا گیا، نہ کہ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے کا۔ ہر امت کو اس کی اپنی شریعت اور راستہ دیا گیا، اور یہ فرق ایک آزمائش ہے تاکہ لوگ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ اس آیت کا اختتام اس یاد دہانی کے ساتھ ہوتا ہے کہ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
https://mozaik.inilah.com/dakw