سعودی عرب نے جدید AI ٹیکنالوجی کے ذریعے حج کی قطاریں کم کر دیں
سعودی عرب حج خدمات میں ڈیجیٹل تبدیلی کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ وہاں کی حکومت نے خودکار الیکٹرانک گیٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمہ آلات کو بہتر بنانا شروع کر دیا ہے تاکہ زائرین کی واپسی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد خدمات کی کارکردگی بڑھانا، امیگریشن چیکنگ کو ہموار کرنا، اور قطاروں میں کمی لانا ہے۔
سعودی پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل کے ترجمان، میجر ناصر العتیبی نے بتایا کہ خودکار الیکٹرانک گیٹس بغیر سکیورٹی پر سمجھوتہ کیے تیز چیکنگ ممکن بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ، AI ترجمہ آلات 138 زبانوں کو سپورٹ کرتے ہیں تاکہ اہلکاروں کو مختلف ممالک کے زائرین سے بات چیت میں مدد ملے۔ بوڑھوں اور معذوروں کی سہولت کے لیے موبائل کاؤنٹر سروس بھی فراہم کی گئی ہے۔
انڈونیشیا نے بھی اسی طرح کا ڈیجیٹل نظام اپنایا ہے۔ وزارت امیگریشن و اصلاح ِ جیل خانہ جات نے سوکارنو-ہٹا اور جوانڈا ہوائی اڈوں پر امیگریشن سیملیس پروسیس کوریڈور گیٹ متعارف کرایا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی آنکھ کی پتلی کے سینسر کے ذریعے بغیر پاسپورٹ نکالے تیز چیکنگ کی سہولت دیتی ہے۔
AI، بائیومیٹرک سینسرز، اور خودکار نظاموں پر مبنی یہ ایجادات جدید حج سفر کے انتظام میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں تاکہ لاکھوں زائرین کے لیے تیز، محفوظ، اور آرام دہ خدمات فراہم کی جا سکیں۔
https://mozaik.inilah.com/haji