تاریخی کتاب کی نظرثانی اور جنگی جہاز 'میکاسا' کا تحفہ: اقتصادی سفارت کاری اور قوم کی اجتماعی یادداشت کا امتحان
انڈونیشیائی حکومت نے قومی تاریخ کی درسی کتابوں میں جاپان کے لیے 'فوجی قبضے' کی اصطلاح کو 'استعمار' میں تبدیل کر کے نظر ثانی کی ہے۔ اس تبدیلی نے اس پرانی داستان کو بے نقاب کر دیا ہے جو جاپان کو ایک فیاض دوست کی تصویر دکھاتی تھی، اور اقتصادی فائدے قبول کرنے اور ماضی کو نظرانداز کرنے کے درمیان خاموش سمجھوتے کو للکارا ہے۔
تناؤ اس وقت اور بڑھ گیا جب جاپان کے وزیر دفاع نے صدر پرابوو کو جنگی جہاز 'میکاسا' کا ایک چھوٹا ماڈل تحفے میں دیا - جو جاپانی سلطنت کی فوجی طاقت کی علامت ہے۔ تاریخی حساسیت کے فقدان کی وجہ سے یہ تحفہ سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنا، کیونکہ جاپان کی ایشیائی فوجی توسیع سے پیدا ہونے والے زخموں کو یہ نظرانداز کرتا ہے۔
انڈونیشیا اور جاپان کے تعلقات پر ہمیشہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور ترقیاتی امداد کا غلبہ رہا ہے۔ لیکن تاریخ کی اس نظرثانی نے یہ احساس دلایا ہے کہ اقتصادی امداد کو قوم کی اجتماعی یادداشت کو بے حس نہیں کرنا چاہیے۔ روموشا (جبری مزدور)، بیگار اور جنگی دور کی تکالیف کے بارے میں یادداشت ایک ایسا ورثہ میں ملنے والا صدمہ ہے جسے سرمایہ کاری سے مٹایا نہیں جا سکتا۔
اس اقدام نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ انڈونیشیا کی آزادی جدوجہد کا نتیجہ ہے، کوئی تحفہ نہیں۔ اگرچہ جاپان ایک اہم ساتھی ہے، لیکن اقتصادی سفارت کاری اور تاریخ کا احترام ایک ساتھ چلنا چاہیے، بغیر ایک دوسرے کے مقابلے میں قوم کی اجتماعی یادداشت کو ختم کیے۔
https://www.harianaceh.co.id/2