جمعہ کے دن روزے کا حکم: دلائل اور علما کی تشریحات
جمعہ کا دن اسلام میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، اسے 'سید الایام' کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس دن عبادات میں زیادہ مصروف رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے، لیکن صرف جمعہ کے دن سنت روزہ رکھنا مکروہ ہے، بلکہ بعض علما اسے حرام بھی کہتے ہیں۔ یہ پابندی ایک صحیح حدیث پر مبنی ہے: "تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، سوائے اس کے کہ وہ اس سے پہلے یا بعد والے دن بھی روزہ رکھے" (بخاری اور مسلم)۔
اس کی حکمت یہ ہے کہ جسمانی حالت کو اچھا رکھا جائے تاکہ اہم عبادات، خاص طور پر جمعہ کی نماز، اچھی طرح ادا کی جا سکیں۔ شریعت نے آسانی فراہم کی ہے تاکہ روزے کی وجہ سے جسمانی کمزوری عبادت میں رکاوٹ نہ بنے۔
جمعہ کے دن روزہ اس صورت میں جائز ہے جب اسے پچھلے یا اگلے دن کے روزے کے ساتھ ملایا جائے، یا اگر یہ کسی اور سنت روزے جیسے عرفہ یا عاشورہ کے دن پڑ جائے، یا پھر کسی کی معمول کی عادت کے مطابق ہو۔ البتہ فرض روزے جیسے رمضان کی قضا، نذر، یا کفارہ، جمعہ کے دن بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ اس موقف کی تائید کئی علما اور فتاویٰ جاری کرنے والے اداروں جیسے ایم یو آئی نے کی ہے۔
https://mozaik.inilah.com/ibad