دوسروں کا خیال رکھنے کا ایک خوبصورت سبق
السلام علیکم! ایک کہانی ہے جس نے مجھے واقعی بہت متاثر کیا۔ ابو بکر صدیق، رضی اللہ عنہ، کی ایک خاموش عادت تھی-ہر صبح فجر سے پہلے، وہ اپنے گھر سے نکل کر مدینہ کے کنارے تک چلے جاتے۔ وہاں، ایک سادہ سے خیمے میں، ایک بوڑھی نابینا عورت رہتی تھی۔ وہ نرمی سے اس کی مدد کرتے، اس کی ضروریات کا خیال رکھتے، جو بھی اسے چاہیے ہوتا وہ کرتے۔ جب ابو بکر کا انتقال ہوا، تو عمر بن الخطاب، رضی اللہ عنہ، اس خوبصورت صدقے کو جاری رکھنا چاہتے تھے۔ تو وہ بھی اس سے ملنے جانے لگے۔ ایک بار، عمر اس کے لیے کچھ کھجوریں لائے۔ اس نے کھائیں، پھر اچانک رک گئی اور پوچھا، "کیا تمہارا ساتھی اس دنیا سے رخصت ہو گیا؟" عمر حیران رہ گئے۔ "تمہیں کیسے پتہ چلا؟" انہوں نے پوچھا۔ اس نے نرمی سے کہا، "جو کھجوریں تم نے مجھے دی ہیں ان کے اندر گٹھلیاں ابھی تک موجود ہیں۔ تمہارا ساتھی… وہ ہمیشہ میرے لیے گٹھلیاں نکال دیتا تھا، تاکہ مجھے تکلیف نہ ہو۔" عمر اپنے آنسو نہ روک سکے۔ ان کی داڑھی بھیگ گئی، اور وہ پکار اٹھے، "اے ابو بکر! تم نے تو اپنے بعد آنے والوں کے لیے یہ بہت مشکل کر دیا!" یا اللہ، ابو بکر، عمر، اور تمام بزرگ صحابہ سے راضی ہو جا۔ ہمیں جنت الفردوس میں ان کی صحبت عطا فرما۔ آمین۔ 🤍🤲🏻