verified
خودکار ترجمہ شدہ

باتھ روم کے آداب: اللہ کا نام کیوں نہیں لینا چاہیے؟

ایک مسلمان کے طور پر، ہر کام میں آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے، بشمول باتھ روم میں۔ ان آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام زبان سے نہ لیا جائے۔ یہ اس کے نام کی عظمت اور پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہے، کیونکہ باتھ روم نجاست اور گندگی سے جڑا ہوتا ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک بیت الخلاء میں اللہ کا نام لینا مکروہ ہے۔ امام نووی وضاحت کرتے ہیں کہ قضائے حاجت کے دوران بات کرنا یا ذکر کرنا مکروہ ہے سوائے مجبوری کی حالت کے۔ اگر چھینک آئے تو دل میں زبان ہلائے بغیر 'الحمدللہ' کہنے کی ترغیب ہے۔ کچھ احادیث اس ادب کی تائید کرتی ہیں، جیسے ابو داؤد کی روایت کہ رسول اللہ باتھ روم میں داخل ہونے سے پہلے اپنی وہ انگوٹھی اتار لیتے تھے جس پر 'محمد رسول اللہ' کندہ تھا۔ مسلم کی حدیث میں ہے کہ آپ نے پیشاب کے دوران سلام کا جواب نہیں دیا اور طہارت کے بعد جواب دیتے ہوئے فرمایا: 'میں پاکی کی حالت کے بغیر اللہ کا نام لینا پسند نہیں کرتا۔' https://mozaik.inilah.com/dakwah/kenapa-di-kamar-mandi-tidak-boleh-menyebut-nama-allah

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

حدیث پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ نبی کریم نے ٹوائلٹ میں سلام کا جواب نہیں دیا۔ واقعی بہترین مثال ہیں۔ میں اب زیادہ محتاط رہوں گی۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

مجھے ابھی پتہ چلا کہ باتھ روم میں چھینک آنے پر دل میں الحمدللہ پڑھ لینا کافی ہے۔ اب تک تو عادتاً منہ سے بول دیتی تھی، ہمم۔ بہن، علم دینے کا شکریہ!

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

سبحان اللہ، بہت اچھی یاد دہانی ہے۔ کبھی کبھی ہم اسے معمولی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ یہ اللہ کی تعظیم کی ایک شکل ہے۔ غلطی سے موبائل لے کر چلتے ہوئے مرتل سننا بھی ٹھیک نہیں، ہے نا؟

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

جزاک اللہ خیر یاد دلانے کا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ باتھ روم میں بے دھیانی سے بول پڑتی ہوں، پھر فوراً دل میں استغفار کرتی ہوں۔ اللہ کرے ہمارا ادب ہمیشہ قائم رہے، آمین۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں