السلام علیکم - کچھ مومن کیوں غریب ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کافر امیر نظر آتے ہیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ السلام علیکم، ہم میں سے کچھ لوگ اس بات کو تسلیم کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کہ اس دنیا میں لوگوں کی دولت اور عیش ہمیشہ ان کے ایمان کے درجے کے ساتھ نہیں ہوتے۔ ہمیں اکثر غیر مسلموں کو آرام میں زندگی گزارتے ہوئے دیکھنا پڑتا ہے جبکہ بہت سے عمل کرنے والے مسلمان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جو لوگ صرف اس زندگی پر نظر رکھتے ہیں، وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ نا انصافی ہے یا وہ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ قرآن اور سنت اس مسئلے پر بات کرتی ہیں، اور میں نے نیچے کچھ آیات اور حدیثیں جمع کی ہیں جو وضاحت لانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ﷻ اس کو فائدہ مند بنائے۔ قرآن: 1. سورۃ آل عمران 178 - یہ مت سمجھو کہ اللہ کچھ کافروں کو اگر زیادہ لطف دیتا ہے تو یہ ان کے لیے بہتر ہے؛ یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ گناہ میں اضافہ کریں اور ان کے لیے ذلت کی سزا تیار ہے۔ 2. سورۃ طٰہ 131 - اپنی آنکھوں کو ان چیزوں کی طرف نہ لالچنے دو جن کا ہم نے کچھ کافروں کو لطف اٹھانے دیا ہے، اس عارضی دنیاوی زندگی کی خوبصورتی؛ تمہارے رب کی روزی آخرت میں بہت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ 3. سورۃ الذخرف 33–35 - اگر ہم چاہتے تو ان سب کو ایک ہی جماعت کافروں کی بنا سکتے تھے، ہم ان کے گھروں کو چاندی کی چھتوں اور سیڑھیوں، دروازوں اور تختوں سے سجا سکتے تھے؛ لیکن یہ سب صرف دنیاوی لطف ہیں، جبکہ آخرت اللہ کے ذکر کرنے والوں کے لیے ہے۔ 4. سورۃ الاحقاف 20 - اس دن جب کافر آگ کے سامنے آئیں گے، انہیں بتایا جائے گا کہ انہوں نے اس زندگی میں اپنی خوشیوں کا وقت گزار دیا، اور آج انہیں اپنی arrogance اور بغاوت کی سزا ملے گی۔ 5. سورۃ الحديد 20 - جان لو کہ یہ دنیاوی زندگی صرف کھیل، مزاح اور دولت اور بچوں میں مقابلہ ہے؛ یہ ایسی بارش کی طرح ہے جو پودے اگاتی ہے جو بعد میں پژمردہ ہو کر بھوسے کی طرح بن جاتے ہیں۔ آخرت میں یا تو سخت سزا ہے یا اللہ کی معافی اور خوشنودی - اس دنیا کی زندگی ایک دھوکہ دہی کا لطف ہے۔ حدیثیں: 1. نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو ایک کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیا جاتا - یہ دکھاتا ہے کہ دنیا آخرت کے مقابلے میں کتنی بےقدری ہے۔ 2. ایک بار نبی ﷺ ایک بے کار لاش کے پاس سے گزرے اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا وہ اسے ایک پیسے کے عوض لے لیں گے؛ انہوں نے انکار کیا۔ پھر نبی ﷺ نے کہا کہ دنیا کی زندگی اللہ کے نزدیک ان کی طرف سے اس لاش سے بھی کم اہم ہے۔ 3. نبی ﷺ نے فرمایا، "دنیا مومن کے لیے قید اور کافر کے لیے جنت ہے۔" 4. قیامت کے دن، جہنم کے لوگوں میں سب سے زیادہ خوش قسمت لوگوں کو دکھایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے اس زندگی میں کوئی اچھائی دیکھی ہے - وہ کہیں گے نہیں۔ اسی طرح، جنت کے لوگوں میں سب سے زیادہ نادار لوگوں کو دکھایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے کوئی مشکل دیکھی ہے - وہ کہیں گے نہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی حیثیت ہمیشہ ہمیشہ کی منزل کے برابر نہیں ہوتی۔ 5. نبی ﷺ نے خبردار کیا کہ جب اللہ ایک گنہگار کو اس زندگی میں وہ چیز دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے، تو یہ ایک دھوکہ ہو سکتا ہے جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے - لوگ اس چیز پر خوش ہوتے ہیں جو انہیں دی جاتی ہے، پھر اچانک مایوسی انہیں دبوچ لیتی ہے۔ خلاصہ اور نرم یاددہانی: یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے کہ یہ زندگی ایک امتحان ہے اور اللہ کے نزدیک ایک شخص کی قدر کا آخری پیمانہ نہیں۔ کچھ کے لیے دولت یا آرام ایک آزمائش یا ہدایت سے عارضی دوری ہو سکتی ہے، جبکہ دوسروں کے لیے مشکلات ایک پاکیزگی اور اللہ کی نظر میں بلندی کا ذریعہ ہو سکتی ہیں۔ ایمان قائم رکھو، نیک اعمال کرو، صبر کرو، اور آخرت کی تلاش کرو۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں سمجھ، راحت، اور بہترین نتیجہ عطا فرمائے۔ والسلام۔