اسلام میں کاہلی سے بچنے پر ایک غور
السلام علیکم! جتنا میں سمجھا ہوں، اللہ تعالیٰ سستی اور بے عملی کو ناپسند فرماتا ہے۔ مجھے ایک حدیث یاد آتی ہے کہ اللہ جمائی کو ناپسند کرتا ہے مگر کھانسی کو پسند کرتا ہے کیونکہ جمائی سستی کی علامت ہو سکتی ہے جبکہ کھانسی آدمی کو جگا دیتی ہے۔ ایک اور تعلیم بھی ہے جہاں ایک غریب شخص کو نصیحت کی گئی کہ وہ بھیک مانگنے کی بجائے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرے، جو معاشرے میں تعاون کی اہمیت دکھاتا ہے۔ یہ بات میرے ذہن میں آئی کیونکہ اب موسم گرما ہے، اور مجھے لگتا ہے میں کافی آرام کر چکا ہوں اور اب کسی معنی خیز مقصد کے لیے جدوجہد شروع کرنی چاہیے۔ تاہم یہ مشکل ضرور ہے، خاص طور پر یہاں کینیڈا میں انٹرن شپ کا بازار کس قدر سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے جو حلال رزق کی تلاش میں ہیں، آسانیاں پیدا فرمائے۔