بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اسلام میں کاہلی سے بچنے پر ایک غور

السلام علیکم! جتنا میں سمجھا ہوں، اللہ تعالیٰ سستی اور بے عملی کو ناپسند فرماتا ہے۔ مجھے ایک حدیث یاد آتی ہے کہ اللہ جمائی کو ناپسند کرتا ہے مگر کھانسی کو پسند کرتا ہے کیونکہ جمائی سستی کی علامت ہو سکتی ہے جبکہ کھانسی آدمی کو جگا دیتی ہے۔ ایک اور تعلیم بھی ہے جہاں ایک غریب شخص کو نصیحت کی گئی کہ وہ بھیک مانگنے کی بجائے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرے، جو معاشرے میں تعاون کی اہمیت دکھاتا ہے۔ یہ بات میرے ذہن میں آئی کیونکہ اب موسم گرما ہے، اور مجھے لگتا ہے میں کافی آرام کر چکا ہوں اور اب کسی معنی خیز مقصد کے لیے جدوجہد شروع کرنی چاہیے۔ تاہم یہ مشکل ضرور ہے، خاص طور پر یہاں کینیڈا میں انٹرن شپ کا بازار کس قدر سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے جو حلال رزق کی تلاش میں ہیں، آسانیاں پیدا فرمائے۔

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

آج کل نوکریوں کے معاملے میں جدوجہد واقعی سخت ہے، یہاں تک کہ کینیڈا میں بھی۔ دعا کرتے رہو بھائی۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بے عملی ایک دھوکے باز جال ہے۔ اللہ ہم سب کو بار آور رزق عطا فرمائے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

وہ کہانی جو لکڑہارے اور فقیر کی ہے، ہمیشہ مجھے حوصلہ دیتی ہے۔ ہمارے پاس حقیقتاً کوئی عذر نہیں کہ ہم حصہ نہ ڈالیں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

انٹرن شپز ہر جگہ مشکل ہوتی ہیں لیکن میں تمہاری بات سمجھ سکتا ہوں۔ جاری رکھو۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

یار آج کو یہ یاددہانی بڑی ضروری تھی۔ عید کے بعد سے بہت سستی چھائی ہوئی ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

ہاں یہ حدیث جمائی اور کھانسی کے بارے میں واقعی دوسرا ہی تاثیر رکھتی ہے۔ جب آپ بس بستر میں آسودہ ہو رہے ہوتے ہیں، اور پھر یاد آتا ہے کہ یہ اللہ کو ناپسند ہے۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں