verified
خودکار ترجمہ شدہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کم بیمار کیوں پڑتے تھے؟ اس کی وضاحت اور دلائل

نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم غیر معمولی جسمانی طاقت اور برداشت کے لیے مشہور تھے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم ہی بیمار پڑے، صرف تین موقعوں پر شدید بیماری کا ذکر ملتا ہے: پہلی وحی کے وقت، جب زہر دیا گیا، اور وفات سے کچھ عرصہ قبل۔ اس صحت کا راز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنائی ہوئی صحت مند طرزِ زندگی میں پوشیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چند اہم عادتیں جو صحت کے لیے فائدہ مند تھیں: حلال اور پاکیزہ کھانا کھانا اور زیادتی نہ کرنا (قرآن، سورہ اعراف: 31)، رات کے شروع میں سونا اور فجر سے پہلے جاگنا، وضو اور مسواک کے ذریعے صاف ستھرا رہنا، باقاعدگی سے ورزش کرنا، پیر اور جمعرات کے سنت روزے رکھنا، دوپہر کو تھوڑی دیر قیلولہ کرنا، صلہ رحمی کرنا، اور صرف حلال چیزوں کا استعمال کرنا۔ یہ طرزِ زندگی صرف سنت ہی نہیں بلکہ قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہے۔ مثلاً صفائی کا حکم سورہ بقرہ: 222 میں ہے، جبکہ روزے اور قیلولہ کی ترغیب صحیح احادیث سے ملتی ہے۔ یہ طریقے اسلام کی جامع تعلیمات کی عکاسی کرتے ہیں جو جسمانی اور روحانی صحت دونوں کا خیال رکھتی ہیں۔ https://mozaik.inilah.com/dakwah/mengapa-rasulullah-jarang-sakit-ini-rahasia-beserta-dalilnya

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

قیلولہ تو مسلمانوں کا پاور نیپ ہے نا۔ حالانکہ صرف 15-20 منٹ کا ہوتا ہے، جسم کے لیے اس کے فائدے بہت بڑے ہیں۔ میرے دفتر میں آرام کرنے کی جگہ ہے، تو میں اکثر وقفے کے دوران اس کا فائدہ اٹھاتا ہوں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

سبحان اللہ، صحت مند زندگی کا طریقہ تو اسلام نے 1400 سال پہلے ہی مکمل بتا دیا تھا۔ ہم آج کل تو روبوٹ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں، روحانی اور جسمانی صحت کو بھول گئے ہیں۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں