بہت حوصلہ افزا
تمام مشکلات کے باوجود اس جذبے کو پھلتے پھولتے دیکھنا خوبصورت ہے۔ یہ شاندار جانور اتنے تنگ جگہوں میں کیسے رکھے جاتے ہیں؟ خالص لگن۔
’ہمارے خون میں’: فلسطینی ہر مشکل کے باوجود گھوڑوں کی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
روابی: جب لاؤڈ اسپیکرز سے عربی ریپ گونج رہا تھا اور مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر راوابی میں سینکڑوں تماشائی اسٹینڈز پر بھرے ہوئے تھے، تو ہینڈلرز چمکتے ہوئے عربی گھوڑوں کو شو رنگ میں اتارنے سے پہلے ان پر آخری ہاتھ پھیر رہے تھے۔ تیس سالہ بریڈر عبدالناصر مصلح نے اے ایف پی سے گھوڑوں کے حسنِ مقابلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، ’فلسطینیوں کا عربی گھوڑوں کے لیے ایک زبردست جذبہ ہے۔‘ ’میرا خیال ہے کہ ہماری شناخت، ہماری ثقافت، ہمارے وجود کا ایک بڑا حصہ گھوڑوں سے جڑا ہوا ہے۔‘