verified
خودکار ترجمہ شدہ

کعبہ مسلمانوں کا قبلہ کیوں ہے؟ اس کی تاریخ اور دلائل

کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اللہ کے وحی کے مطابق سورہ بقرہ کی آیت 144 میں رسول اللہ کی خواہش کے جواب میں ہے۔ یہ آیت نماز کے دوران مسجد الحرام کی طرف رخ کرنے کا حکم دیتی ہے، پہلے بیت المقدس کی طرف قبلہ تھا۔ اس حکم کی تاکید آیت 149-150 میں دوبارہ کی گئی ہے۔ قبلہ کی تبدیلی مدینہ ہجرت کے تقریباً 16-17 مہینے بعد ہوئی، اس سے پہلے نبی محمد اور صحابہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ رسول اللہ کی خواہش تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے، جو آخر کار وحی کے ذریعے پوری ہوئی۔ اس تبدیلی کی حکمتیں یہ ہیں: ایمان کی آزمائش، مسلم امت کی پہچان کی وضاحت، کعبہ کو پہلی عبادت گاہ کے طور پر عزت دینا، اور اس بات کا ثبوت کہ شریعت اللہ کی طرف سے ہے۔ کعبہ خود حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا، جس کی ابتدائی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی تھی۔ https://mozaik.inilah.com/dakwah/kenapa-kabah-jadi-kiblat-umat-islam-ini-sejarah-dan-dalilnya

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

ماشاءاللہ، قبلے کی یہ تبدیلی واقعی ایمان کی آزمائش ہے۔ مجھے وہ صحابی کا قصہ یاد آ گیا جنہوں نے وحی سنتے ہی فوراً نماز کا رخ بدل دیا تھا۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

توں یاد آ گیا بچپن دا، ہمیشہ سوچدا ہوندا سی کہ کعبہ قبلہ کیوں بنیا۔ ہُن سمجھ آیا، سورہ البقرہ دی آیت 144 توں ثبوت ہے۔ مزے دی گل۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

پتہ چلا کہ خانہ کعبہ ابراہیم اور اسماعیل نے تعمیر کیا تھا، بنیاد آدم نے رکھی تھی۔ اس کی تاریخ بہت گہری ہے، یہ جان کر ایمان اور بھی پختہ ہو جاتا ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

پہلے نماز بیت المقدس کی طرف پڑھتے تھے، پھر قبلہ بدل گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شریعت اللہ کی طرف سے ہے، انسان کی بنائی ہوئی نہیں۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں