صبح کی نماز کب قضا کی جائے؟ اس کا وقت، نیت، اور طریقہ
پانچ وقت کی نماز مسلمانوں پر فرض ہے، بشمول صبح کی نماز جس کا وقت مختصر ہوتا ہے۔ اگر یہ چھوٹ جائے، چاہے نیند کی وجہ سے یا بھولنے سے، تو اس کی قضا ضروری ہے۔ نبی محمد ﷺ نے فرمایا: 'جو شخص سو کر نماز چھوڑ دے یا اسے بھول جائے، تو جب اسے یاد آئے اسے پڑھ لے۔' (بخاری و مسلم)۔
صبح کی قضا کے لیے کوئی خاص وقت نہیں؛ جاگنے یا یاد آنے کے فوراً بعد اسے ادا کرنا فرض ہے، چاہے سورج طلوع ہو چکا ہو۔ بہتر ہے کہ ظہر سے پہلے پڑھ لی جائے، لیکن قضا کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ یہ عمل صحابہ کے طریقے پر ہے جنہوں نے غزوہ خندق کے باعث رک جانے کے بعد یکے بعد دیگرے نمازیں قضا کیں۔
قضا کا طریقہ عام صبح کی نماز جیسا ہی ہے: دو رکعتیں، وہی حرکات۔ نیت یوں ہے: "اُصَلِّی فَرْضَ الصُّبْحِ رَکْعَتَیْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ قَضَاءً لِلّٰہِ تَعَالٰی" (میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے قبلہ رو ہو کر صبح کی فرض نماز دو رکعت قضا کی نیت کی)۔
https://mozaik.inilah.com/ibad