رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی صفات کی حقیقی روایات پر مبینی زبانی وضاحت
اسلام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر بنانے کی ممانعت ہے، لیکن مستند روایات کی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شمائل وصفات کی زبانی تشریح جائز ہے۔ حسین ہیکل نے اپنی کتاب "حیات محمد" میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید رنگت، خوش شکل، درمیانہ قد، گھنے اور نرم گھنگریالے سیاہ بالوں، کشادہ پیشانی، گہرے سیاہ چمکدار آنکھوں، نفیس ناک، دندان مبارک کے درمیان قدرے فاصلہ، گھنے رخساروں اور چوڑے جسم کا حامل بیان کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدرے جھک کر تیز قدموں سے چلتے تھے، چہرہ مبارک پر غور و فکر کے آثار نمایاں ہوتے تھے اور آپ کی نظر میں وقار ہوتا تھا۔
روایات کے مطابق ہجرت کے سفر کے دوران ام معبد نے بھی یہی جسمانی صفات مشاہدہ کیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چمکدار چہرے، بلند مرتبہ شخصیت، تسکین بخش واضح گفتگو کا ذکر کیا اور بتایا کہ آپ اپنے قافلے میں سب سے خوبصورت نظر آتے تھے۔ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ساتھ جو اعلیٰ مقام رکھتی تھیں، آپ کی مناسبت کا بھی ذکر ہے۔
ایک اور صحابی حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں پورے چاند کو دیکھنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے باہر آتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تروتازہ، صاف چمکدار رنگت، مرتب بالوں کے ساتھ سرخ رنگ کی سیاہ لکیروں والی چادر پہنے ہوئے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اللہ کی قسم، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پورے چاند سے کہیں زیادہ حسین دیکھا۔"
https://www.gelora.co/2026/05/