اسلام میں استدراج کے تصور کو سمجھنا
اسلام میں استدراج سے مراد دنیاوی نعمتیں-جیسے دولت، صحت یا اقتدار-کسی ایسے شخص کو دی جاتی ہیں جو مسلسل گناہ کر رہا ہو، درحقیقت یہ اللہ کی طرف سے بتدریج سزا کی ایک شکل ہے۔ اس تصور کی وضاحت قرآن مجید میں کی گئی ہے، بشمول سورۃ الاعراف آیت 182، جس میں ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، انہیں ان کی خبر کے بغیر بتدریج ہلاکت کی طرف چھوڑ دیا جائے گا۔
استدراج کی علامات میں عبادت میں کمی جبکہ دنیاوی نعمتوں میں اضافہ، مسلسل گناہ کے باوجود کامیابی، اور عبادت سے دور رہنے کے باوجود پرسکون زندگی شامل ہیں۔ اسے سمجھنا ضروری ہے تاکہ مسلمان اللہ کی طرف سے رحمت کی نعمت اور سزا کے التوا میں دی گئی نعمت کے درمیان فرق کر سکیں۔
استدراج کے بارے میں دیگر دلائل مختلف آیات میں پائے جاتے ہیں، جیسے سورۃ القلم آیات 44-45 اور سورۃ الانعام آیت 44، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اللہ ان لوگوں کے لیے خوشی کے دروازے کھول سکتا ہے جو غفلت میں ہیں، صرف اس لیے کہ وہ انہیں اچانک سزا دے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی ایک حدیث میں خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص کو دنیا کی نعمتیں دی جائیں اور وہ گناہ کرتا رہے، تو یہ استدراج ہے۔
https://mozaik.inilah.com/dakw