میری تاریک ترین گھڑی میں رحمت اور رہنمائی کی ایک التجّا
السلام علیکم، پیارے بھائیوں اور بہنوں۔ میں پچھتاوے اور غم سے لدے ہوئے دل کے ساتھ آپ کے پاس آئی ہوں۔ ایک مسلمان عِورت ہونے کے ناتے، جو ایمان کی پرورش میں پلی بڑھی، میں اپنے آپ کو ایک ایسی جگہ پر پاتی ہوں جس کا میں نے کبھی تصوّر بھی نہیں کیا تھا: میں اپنے دین سے بہت دُور بھٹک گئی ہوں۔ برسوں کے دوران، میں نے بڑے گناہ کئے ہیں، جن میں نمازیں چھوڑنا، رمضان کو نظر انداز کرنا، اور حَرام اعمال میں مُبتلا ہونا شامل ہیں جن پر مجھے بہت پچھتاوا ہے۔ پچھلے چھ مہینوں سے، یہ سب مجھے ایک گہرے افسردگی میں دھکیل چکا ہے۔ احساسِ جرم اتنا بھاری ہے کہ میں نے اپنے آپ کو نقصان بھی پہنچایا ہے، اپنے کئے ہوئے غلط کاموں پر اپنے آپ سے نفرت میں غرق ہو کر۔ حال ہی میں، ایسے خوابوں نے میرا پیچھا کرنا شروع کر دیا ہے جن میں میں اپنی جان لے لیتی ہوں، اور جاگنے پر افسوس ہوتا ہے کہ میں جی کیوں اُٹھی۔ ہر صبح ناقابلِ برداشت لگتی ہے، اور میں اپنے دن روتے گزارتی ہوں، اللہ سے پوچھتی ہوں کہ میں اتنی کمزور کیسے ہو گئی اور اس عزیز ایمان سے غداری کیسے کر بیٹھی جسے میں عزیز رکھتی تھی۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں اسلام، اللہ اور اپنے آپ کے سامنے ناکام ہو گئی ہوں۔ ان گناہوں کے ساتھ جینے کا خیال ناممکن لگتا ہے، اور میں نہیں جانتی کہ آگے کیسے بڑھوں یا پھر سے سکون کیسے پاؤں۔ میں بس اب زندہ رہنا نہیں چاہتی، اور اس تاریکی سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کے لیے بے تاب ہوں۔