یہ کبھی ختم نہیں ہوتا
یہ دیکھ کر دل ٹوٹتا ہے کہ عام شہری پھر سے اس سب کے بیچ میں پھنس گئے ہیں۔ کتنے اور خاندانوں کو گاڑیوں میں سونا پڑے گا اس سے پہلے کہ یہ سلسلہ رکے؟
یہ دیکھ کر دل ٹوٹتا ہے کہ عام شہری پھر سے اس سب کے بیچ میں پھنس گئے ہیں۔ کتنے اور خاندانوں کو گاڑیوں میں سونا پڑے گا اس سے پہلے کہ یہ سلسلہ رکے؟
اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔
نیا تبصرہ شامل کریں
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں