کپڑوں پر تصاویر والی قمیض پہن کر نماز پڑھنے کا حکم، کیا یہ درست ہے؟
فقہ میں، تصاویر والی قمیض پہن کر نماز پڑھنا تب بھی درست ہے جب تک کپڑا نجاست سے پاک ہو اور ستر ڈھانپتا ہو۔ اگرچہ درست ہے، لیکن ابن حجر الہیتمی، شیخ علی راغب، اور شیخ تقی الدین جیسے اکثر علما اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔
شیخ تقی الدین نے 'کفایۃ الاخیار' میں وضاحت کی: "نماز میں تصاویر والے کپڑے پہننا مکروہ ہے۔" اس کی وجہ یہ ہے کہ تصاویر پہننے والے یا دوسرے نمازیوں کی خشوع میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
مکروہ ہونے کی بنیاد بخاری کی حدیث سے بھی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار نقش و نگار والے کپڑے میں نماز پڑھی، پھر آپ کی نظر اس کی طرف چلی گئی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا، "اس کپڑے نے مجھے میری نماز سے غافل کر دیا،" اور اسے بدل کر سادہ کپڑا پہن لیا۔
علما نماز میں سادہ اور سیدھے کپڑے پہننے کی ترغیب دیتے ہیں، خاص طور پر سفید سادہ قمیض، تاکہ زیادہ خشوع حاصل ہو۔
https://mozaik.inilah.com/ibad