اسلام میں گھر کے کاموں میں بیوی کی مدد کرنے کا حکم
اسلام میں، گھر کے کاموں میں بیوی کی مدد کرنا بہت جائز ہے اور یہ قابلِ تعریف عمل ہے۔ شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء آیت 19 میں فرمایا: "اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے سربراہِ خانہ کے طور پر جانے جاتے تھے جو ہمیشہ اپنی بیوی کے گھریلو کاموں میں مدد کرتے تھے۔ بخاری کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، "آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کاموں میں مدد کیا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے نکل جاتے۔" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے۔" (ترمذی)
اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ شادی سے سکون اور میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا ہونی چاہیے، جیسا کہ سورۃ الروم آیت 21 میں بیان کیا گیا ہے۔ برتن دھونے، گھر کی صفائی، بچوں کی دیکھ بھال جیسے چھوٹے چھوٹے کام شوہر کی محبت کا اظہار ہو سکتے ہیں۔
شوہر کو اچھا سلوک کرنے، انصاف کرنے، قربت اور نرمی اختیار کرنے، اور بیوی کے لیے سنورنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میاں بیوی کے باہمی تعلقات کو منصفانہ طریقے سے منظم کرتا ہے اور صرف ایک فریق سے مطالبہ نہیں کرتا۔
https://mozaik.inilah.com/dakw