آیت الکرسی کی خوبصورتی اور طاقت
آیت الکرسی، جو سورۃ البقرہ (آیت 255) میں موجود ہے، قرآن پاک کی سب سے زیادہ معزز آیات میں سے ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، عظمت اور اعلیٰ صفات کا خوبصورت بیان ہے۔ اس زبردست آیت کی تلاوت میں بے شمار برکات اور فضائل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے، اسے موت کے سوا جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی۔" سبحان اللہ! ایک بار حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، "یا رسول اللہ، آپ پر نازل ہونے والی سب سے باعزت آیت کون سی ہے؟" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "آیت الکرسی۔" یہ آیت توحید کا ایک گہرا اعلان ہے: اللہُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ... (آپ باقی جانتے ہیں!) اس کا معنی دل کو عظمت سے بھر دیتا ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کر سکتا۔ وہ ہمارے آگے اور پیچھے کی ہر بات جانتا ہے، اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی اس کے علم کو نہیں پا سکتا۔ اس کا عرش آسمانوں اور زمین پر چھایا ہوا ہے، اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ وہ بلند مرتبہ ہے، سب سے بڑا ہے۔ آیت الکرسی کی ایک حیرت انگیز بات اس کی ساخت ہے-اس میں ایک قسم کی خوبصورت توازن ہے۔ پہلا اور آخری جملہ عظمت میں ایک دوسرے کا عکس ہیں، اور درمیانی آیت الگ کھڑی ہے، اللہ کے ہر چیز پر محیط علم کو اجاگر کرتی ہے۔ بس اس پر غور کرنے سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا دے جو اس عظیم آیت کی باقاعدگی سے تلاوت کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ آمین۔