نیکیوں کا شمار یا خلوصِ نیت؟
السلام علیکم، سب کو۔ تو آپ کو معلوم ہے نا کہ ہمیں بہت سی نیکیوں کے اجر ملتے ہیں، جیسے جمعے کی نماز پہلے پہنچنا، دوسروں کی مدد کرنا، اور دوسرے اچھے کام۔ میرا ذہن کبھی کبھار اس پر اٹک جاتا ہے، کہ بعض اوقات لگتا ہے لوگ بس یہ سب کچھ صرف پوائنٹس جمع کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ لیکن میں ان گنتیوں یا حساب کتاب میں زیادہ نہیں پڑتا، سچ کہوں۔ کیا اصل بات یہ نہیں کہ ہم ان کاموں کو محض اللہ کی رضا کے لیے خالص نیت سے کریں؟ آپ کا کیا خیال ہے-کیا ہمیں ہر نیکی کا ٹریک رکھنے کا جنون ہونا چاہیے، یا بس اپنی عبادت میں خلوص پر توجہ دینی چاہیے؟ ابھی سیکھ ہی رہا ہوں، تو نرمی سے کچھ راہنمائی کی ضرورت ہے۔