تاجسس: اسلام میں تصور، احکام، دلائل، روزمرہ مثالیں، اور اس کے نقصانات
تاجسس کسی دوسرے کی برائیاں، غلطیاں یا عیب تلاش کرنے کا رویہ ہے۔ اسلام میں یہ سخت حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ آپسی رشتوں کو بگاڑ سکتا ہے۔ البتہ، علما نے ضرورت کی حالت میں تاجسس کی اجازت دی ہے، جیسے کسی مجرم کی چھان بین یا جنگ کے دوران دشمن کی جاسوسی مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر۔
تاجسس کی ممانعت قرآن میں تاکید کے ساتھ آئی ہے، مثلاً سورہ الحجرات آیت 12 دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے روکتی ہے، اور سورہ الاسراء آیت 36 بغیر علم کے کسی چیز کے پیچھے نہ پڑنے کا حکم دیتی ہے۔ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تاجسس کو بخاری کی حدیث میں منع کیا، اور خبردار کیا کہ جو اپنے بھائی کے عیب ڈھونڈے گا، اللہ اس کے اپنے عیب ظاہر کر دے گا (ترمذی)۔
روزمرہ زندگی میں تاجسس کی مثالوں میں کسی کی نجی زندگی کی جاسوسی، پارٹنر کا فون چپکے سے چیک کرنا، چھپ کر سننا، سوشل میڈیا پر عیب تلاش کرنا، بغیر اجازت دوسروں کے پیغام پڑھنا، یہاں تک کہ doxing بھی شامل ہے۔ یہ رویہ نقصان دہ ہے کیونکہ بھائی چارہ ختم کر سکتا ہے، غیبت اور بہتان کے دروازے کھولتا ہے، دشمنی پیدا کرتا ہے، اور خود اپنی اسلامیت کو برباد کرتا ہے۔
https://mozaik.inilah.com/dakw