اللہ سے بخشش اور عافیت کی طلب
ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک بار منبر پر کھڑے ہو کر، آنکھوں میں آنسو لیے، بتایا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہجرت کے پہلے سال وہاں کھڑے ہوئے، روئے، اور فرمایا: اللہ سے بخشش اور عافیت مانگو، کیونکہ یقینِ ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیں کی جاتی۔ [ترمذی] ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو اس سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں جتنی اس سے عافیت مانگنا۔ [ترمذی] انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں دنیا اور آخرت میں عافیت عطا ہو جائے تو تم واقعی کامیاب ہو گئے۔ [ترمذی] ابن قتیبہ نے وضاحت کی کہ عافیت کا مطلب ہے دنیا کی مشکلات اور آخرت کے خوف سے محفوظ ہونا۔ [غریب الحدیث] ایک سادہ دعا جو اکثر دہرائی جا سکتی ہے: الَّلهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔