انصاف کے تصور کا ایک اور بڑے حقیقت کی طرف اشارہ کرنے پر غور، الحمدللہ۔
کیا کبھی اپنے آپ کو یہ سوچتے ہوئے پایا ہے کہ دنیا ظالم یا ناانصافیوں سے بھری لگتی ہے؟ لیکن رکیے اور سوچیے: آخر ہمیں 'انصاف' کا یہ تصور کہاں سے ملا ہے؟ اگر ہر چیز شروع سے آخر تک واقعی بے معنی ہوتی، تو ہم میں سے کسی کو یہ شدید احساس کیوں ہوتا کہ چیزیں مختلف ہونی چاہئیں؟ آپ کسی لکیر کو ٹیڑھا نہیں کہہ سکتے جب تک کہ آپ کے پاس سیدھی لکیر کا کوئی تصور پہلے سے نہ ہو۔ کبھی کبھی میں نے خود کو یہ کہنے کی کوشش کی کہ انصاف بس میرا ذاتی احساس ہے - کوئی حقیقی چیز نہیں۔ لیکن پھر خدائی نظام کے خلاف میری پوری دلیل بکھر جاتی، کیونکہ وہ اعتراض اس بات پر منحصر ہے کہ دنیا واقعی ناانصاف ہے، نہ کہ صرف یہ کہ وہ میری مرضی کے مطابق نہیں ہے۔ لہٰذا، اللہ کی وجودیت کے خلاف بحث کرنے کی کوشش میں - یعنی یہ دلیل دینے کہ تمام حقیقت بے معنی ہے - میں ایک ایسے حصے پر انحصار کرنے پہنچا جو کامل معنی رکھتا ہے: انصاف کا میرا اپنا تصور۔ اس سے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ ایمان کو مسترد کرنا شاید بہت سادہ ہو۔ اگر پوری کائنات واقعی کوئی معنی نہ رکھتی، تو ہم اسے بے معنی تسلیم بھی نہ کر پاتے - بالکل جیسے اگر کہیں بھی روشنی نہ ہوتی اور دیکھنے کے لیے آنکھیں نہ ہوتیں، تو ہم کبھی نہ جانتے کہ اندھیرا کیا ہوتا ہے۔ اس لفظ کا کوئی مطلب ہی نہ ہوتا۔ سبحان اللہ۔