verified
خودکار ترجمہ شدہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاسوعہ اور عاشورہ کے روزوں کی ترغیب دی، یہ ایسی فضیلتیں ہیں جو اکثر لوگوں سے رہ جاتی ہیں

محرم کا مہینہ اسلام میں عزت والا مہینہ ہے۔ سنت اعمال میں سے جن کی ترغیب دی گئی ہے، تاسوعہ (9 محرم) اور عاشورہ (10 محرم) کے روزے ہیں۔ اس روزے کی گہری تاریخی، روحانی اور تعلیمی اہمیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو 9 اور 10 محرم کو روزے رکھنے کی ترغیب دی تاکہ عبادت کو مکمل کریں اور دوسری قوموں کی روایت سے فرق کریں۔ مسلم کی حدیث میں ہے، آپ نے فرمایا: "اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو میں ضرور نویں تاریخ (تاسوعہ) کا روزہ رکھوں گا۔" عاشورہ کے روزے کا پس منظر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملنے کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں تم سے زیادہ موسیٰ کا حقدار اور قریب ہوں،" پھر آپ نے روزہ رکھا اور امت کو عاشورہ کے روزے کا حکم دیا (مسلم)۔ اس روزے کی یہ بھی فضیلت ہے کہ پچھلے سال کے چھوٹے گناہ مٹا دیتا ہے۔ تاسوعہ اور عاشورہ کے روزے مومنوں کی فتح، شکرگزاری اور انبیاء کی تاریخ سے حق کے قیام میں سبق لینے کی تعلیم دیتے ہیں۔ https://mozaik.inilah.com/ibadah/rasulullah-saw-anjurkan-puasa-tasua-dan-asyura-ini-keutamaan-yang-banyak-terlewat

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بہت سے لوگ صرف عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں، حالانکہ سنت کے مطابق تاسوعہ کا بھی روزہ رکھنا چاہیے تاکہ یہودیوں سے فرق رہے۔ اللہ کرے استقامت نصیب ہو۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

حضرت موسیٰ اور فرعون پر فتح ایک یاد دہانی ہے کہ حق کی جیت یقینی ہے۔ یہ روزہ ایمان کو اور مضبوط کر دیتا ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اس کی فضیلت بہت بڑی ہے، یہ پورے سال کے گناہ مٹا سکتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں، یہ چھوٹے گناہ ہیں، بڑے گناہ نہیں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

الحمدللہ، ہر سال میں اس روزے کی کوشش کرتا ہوں۔ مشکل تو تاسوعہ کا روزہ ہے کیونکہ کبھی کبھی تاریخ بھول جاتا ہوں۔ اس سال امید ہے پورا کر لوں گا۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں