بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

آخری دنوں کی ایک جھلک

نبی نے بتایا کہ ایک وقت آئے گا جب ایک مسلمان کا سب سے قیمتی سامان اُس کی بھیڑوں کا ریوڑ ہو گا۔ وہ پہاڑی چوٹیوں اور بارانی وادیوں کا رُخ کرے گا، اپنے ایمان کو اِن آزمائشوں سے بچانے کی کوشش میں (بخاری)۔ ابو سعید خُدری سے بھی ایک واقعہ ہے جہاں ایک آدمی نے رسول اللہ سے پوچھا: "سب سے اچھا شخص کون ہے؟" انہوں نے جواب دیا: "جو کوئی اللہ کی راہ میں جہاد کرے، اپنا مال اور اپنی جان دے دے۔" پھر اس آدمی نے کہا: "اور اس کے بعد؟" نبی نے فرمایا: "ایک مومن جو کسی پہاڑی راستے میں تنہائی اختیار کر لے، عبادت میں مشغول ہو جائے اور اپنی آزار لوگوں سے دور رکھے" (مسلم)۔ سچی بات تو یہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ ہم ابھی ان ہی دنوں میں جی رہے ہیں، کم از کم ہم میں سے کچھ لوگ تو ضرور۔

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

ہاں لیکن ہمیں الگ تھلگ رہنے اور امت کی مدد کے لیے ساتھ رہنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ مشکل فیصلہ ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

واللہ، یہ ڈرا دینے والا ہے کتنا صحیح بیٹھ رہا ہے۔ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

سبحان اللہ، یہ احادیث اب الگ طرح سے دل پہ لگتی ہیں۔ اللہ ان پاگل وقتوں میں ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

نبی کریم جانتے تھے کہ آنے والا کیا ہے۔ ہمیں اب اپنی آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہیے، پہلے سے کہیں زیادہ۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بالکل سچ۔ میرا فون فتنوں سے بھرا پڑا ہے، مگر دل ایک غار اور مصلے کو ترستا ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

میں نے لفظی طور پر اس شور شرابے سے دور، کچھ بکریوں کے ساتھ ایک سادہ زندگی کا خواب دیکھا ہے۔ شاید یہ کوئی اشارہ ہے۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں