ثقافتی روایات اور جدید رجحانات کے درمیان ایمان کی منازل
السلام علیکم دوستو۔ آج کل اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ نئی نسل اسلام کی پابندی میں بہت آگے نکل رہی ہے، اور بزرگوں کی کمی پوری کر رہی ہے۔ جبکہ بہت سے بزرگ یا ان کے حامی کہتے ہیں کہ وہ فطری اور خلوص سے دین پر عمل کرتے تھے، اور نوجوان ایمان کو صرف ایک جدید خیالات سے بنی شناخت بنا رہے ہیں۔ سچ پوچھو تو دونوں باتوں میں کچھ نہ کچھ سچائی ہے، مگر پورا معاملہ صرف یہی نہیں۔ بہت سے بزرگوں نے اسلام کو زندہ رکھا، یہ بڑی بات ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ دراصل خالص دین کو نہیں بلکہ اسلام اور مقامی ثقافت کے امتزاج کو بچا رہے تھے۔ رسم و رواج اور معاشرتی اصول آہستہ آہستہ مذہبی فرائض بن گئے، تو ایمان دراصل ثقافتی شناخت بن کر رہ گیا، اس کے بنیادی اصولوں پر عمل نہ رہا۔ لیکن نوجوان بھی کامل نہیں۔ ماشاءاللہ، بہت سے ایسی ثقافتی عادات پر سوال اٹھا رہے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ اہم ہے۔ پھر بھی ان کی سمجھ اکثر باہر کے اثرات جیسے عالمی رجحانات، شناختی سیاست اور سوشل میڈیا مباحثوں سے بنتی ہے۔ سبحان اللہ، یہ چیزیں خاموشی سے دین کے تصور کو بدل دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو متوقع گروہ سامنے آتے ہیں۔ ایک اسلام کو جدید معیارات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے - اگر کوئی چیز میل نہ کھائے تو فوراً اسے فرسودہ یا ناانصافی کہہ دیا جاتا ہے۔ دوسرا ردعمل میں ماضی کی ہر چیز کو مقدس قرار دیتا ہے، یہاں تک کہ ثقافتی اصول بھی، اور ان پر سوال اٹھانے والے کو جدیدیت پسند یا مغرب زدہ کہا جاتا ہے۔ ’حجابی فیمنسٹ‘ یا ’مغرب کی نقل‘ جیسے الفاظ اچھالے جاتے ہیں۔ دونوں طرف لیبل لگانے لگتے ہیں: ایک طرف ’قدامت پسند‘ یا ’رجعت پسند‘، دوسری طرف ’لبرل‘ یا ’نظریاتی‘۔ اور اگر تم دونوں میں سے کسی کی آنکھ بند کر کے پیروی نہیں کرتے، تو کیا ہوتا ہے؟ پھر بھی دونوں طرف سے لیبل لگ جاتا ہے۔ واللہ، اسلام کو جدید نظریات کی توثیق کی ضرورت نہیں، نہ ہی روایات کی اندھی تقلید کی۔ یہ اپنے اصولوں پر کھڑا ہے۔ دونوں انتہائیں دراصل ایک دوسرے کے ردعمل میں ہیں، ضروری نہیں کہ ہمارے دین کی اصل تعلیمات کی طرف لوٹ رہی ہوں۔ آئیے، انشاءاللہ، ہم اپنی توجہ وہیں مرکوز رکھیں۔