ایم یو آئی کے سربراہ: کرپٹ لوگ سزائے موت کے مستحق ہیں، انسانی حقوق کی آڑ میں نہ چھپیں
انڈونیشیا کی علماء کونسل (ایم یو آئی) کے سربراہ انور اسکندر نے زور دے کر کہا کہ بڑے پیمانے پر ملکی نقصان کرنے والے کرپٹ لوگ سزائے موت کے مستحق ہیں۔ ان کے مطابق کرپشن نے بہت سے لوگوں کے جینے کا حق چھین لیا اور غربت اور سماجی عدم مساوات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا، "ایم یو آئی نے 2005 سے ہی یہ حکم جاری کیا ہے کہ کرپٹ لوگوں کی سزا موت ہے، کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کے جینے کے حق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔" انہوں نے مثال دی کہ کھربوں روپے کی کرپشن نے بالواسطہ طور پر بہت سے لوگوں کو مار ڈالا ہے۔
انور نے ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو کرپٹ لوگوں کے لیے سخت سزاؤں کو مسترد کرنے کے لیے انسانی حقوق کا مسئلہ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا، "وہ انسانی حقوق کے قوانین کے پیچھے چھپنا پسند کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں انسانی حقوق کوئی مطلق چیز نہیں اگر وہ خود انسانی حقوق کے ہی خلاف ہو جائے۔"
انہوں نے مقاصد شریعت کے اصول پر زور دیا، خاص طور پر حفاظتِ نفس (جان کی حفاظت)، جسے کرپشن کے خاتمے میں ترجیح دی جانی چاہیے۔ ایم یو آئی نے علماء اور قانون نافذ کرنے والوں سے مل کر کرپٹ لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
https://www.gelora.co/2026/07/