ایمان اور دریافت کی روشنی میں ذہن اور دل
ارے سب لوگو! تو میں پڑھ رہا تھا کہ سائنس اور قرآن دل اور دماغ کے بارے میں کیا کہتے ہیں، اور یہ بہت حیرت انگیز ہے۔ آپ جانتے ہیں، سائنس دل کو صرف خون پمپ کرنے والا آلہ سمجھتی تھی، لیکن اندازہ کرو؟ حالیہ مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اس کا اپنا ایک چھوٹا سا 'دماغ' ہے جس میں 40,000 سے زیادہ نیوران ہیں جو معلومات پر کارروائی کر سکتے ہیں اور اصل دماغ سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ دل فیصلے، جذبات اور وہ آنتوں کا احساس-یا الہام، جس کا مطلب ہے بغیر ثبوت کے کچھ جان لینا، میں مدد کرتا ہے۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو قرآن کہتا ہے۔ اسلام میں، دل کو ہماری اندرونی بیداری اور الہام کا مرکز قرار دیا گیا ہے، جہاں ہم گہرے حقائق کو سمجھتے ہیں۔ قرآن سکھاتا ہے کہ لوگ شاید حقیقت کو نہ سمجھ سکیں اس لیے نہیں کہ وہ منطقی طور پر سوچ نہیں سکتے، بلکہ اس لیے کہ ان کے دلوں میں وہ اندرونی بصیرت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ استدلال اور جھوٹ کو دماغ سے بھی جوڑتا ہے، جیسا کہ سورۃ العلق میں جہاں وہ پیشانی کا ذکر کرتا ہے، جسے سائنس اب دکھاتی ہے کہ یہ دماغ کے پری فرنٹل کارٹیکس کا حصہ ہے جو استدلال اور دھوکہ دہی میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ، قرآن اس بات پر بات کرتا ہے کہ دل نرم یا سخت کیسے ہو سکتے ہیں-جیسے جب ہم دوسروں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں، تو ہمارے دل کی دھڑکنیں ہموار ہو جاتی ہیں اور ایک طرح سے اس طرز کو 'یاد' کر لیتی ہیں۔ تو اگر ہم مسلسل اچھے ہوں اور اللہ کی اطاعت کریں، تو ہمارے دل ان ہموار دھڑکنوں کو ترقی دیتے ہیں، جس سے ہم نیکی اور اطاعت کے لیے زیادہ کھلے ہو جاتے ہیں۔ اس لیے قرآن کچھ دلوں کو نرم اور قبول کرنے والا بتاتا ہے، جبکہ دوسرے مخالفت کی وجہ سے سخت ہو جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ بہت اچھا ہے کہ قرآن کا نظریہ نہ صرف سائنس سے میل کھاتا ہے بلکہ ان مخصوص تفصیلات کو بھی شامل کرتا ہے جو بہت معنی رکھتی ہیں۔ اللہ ہمیں ہمارے دلوں کو نرم کرنے اور حکمت تلاش کرنے کی ہدایت دے۔ الحمدللہ!