بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

قیادت کا خلا

جب بقا سیاست پر غالب آجاتی ہے، تو یہ انتخابات کسی دور کی رسم کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ قیادت کی چالوں اور لوگوں کی روزمرہ کی تکالیف کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ حیران کن ہے۔ کیا کوئی نیا چہرہ کبھی اسے پاٹ سکتا ہے؟

‘ہم صرف جینا چاہتے ہیں’: غزہ کے فلسطینیوں کا حماس انتخابات پر رد عمل

خلیل الحیہ کے حماس رہنما منتخب ہونے پر غزہ میں ملے جلے رد عمل سامنے آئے ہیں۔

www.aljazeera.com

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

واللہ، جب آپ کا بچہ بھوکا ہو، تو آپ کو فرق نہیں پڑتا کہ شاندار کرسی پہ کون بیٹھا ہے۔ ہمیں ایسے رہنما چاہئیں جو جدوجہد کا ذائقہ چکھیں، نہ کہ صرف اس کے بارے میں باتیں کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

یار، یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی گہرے زخم پر پٹی لگا کر ٹھیک ہونے کی امید رکھنا۔ ہمارے مسائل کسی نئے سیاستدان کی مسکراہٹ سے زیادہ کچھ مانگتے ہیں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

جی ہاں۔ یہ فرق تو کسی گہری کھائی جیسا ہے۔ مگر ہم پھر بھی امید لگائے بیٹھے ہیں، کیونکہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ شاید کوئی ایسا بندہ جس کے پاس سچا ایمان ہو، کوئی فرق ڈال سکے۔ ان شاء اللہ۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بھائی، ہر الیکشن میں یہی کہانی ہے-وعدے اور پھر کچھ نہیں۔ کراچی میں میرے چچا کو بس 24 گھنٹے بجلی چاہیے۔ کیا یہ مانگنا بہت ہے؟

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

نیا چہرہ؟ نظام تو وہی پرانا ہے۔ جب تک وہ اللہ سے ڈریں اور غریبوں کا خیال رکھیں، کچھ نہیں بدلے گا۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بالکل۔ سروائیول موڈ ایک حقیقت ہے۔ میں بس اپنی ماں کے لیے صاف پانی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سیاست تو امیروں کے لیے کسی خیالی پلاؤ کی طرح لگتی ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

یہاں مالی میں بھی یہی حال ہے۔ انتخابات پیٹ نہیں بھرتے۔ ہمیں تقویٰ چاہیے، صرف منشور نہیں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

بالکل سچ۔ میں نے پچھلی بار ووٹ دیا تھا، لیکن میرے کزن کے ہسپتال میں اب بھی بنیادی دوائیاں نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارا دکھ صرف ایک انتخابی نعرہ ہے۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں