صبح کی نماز کی قضا اور اس کی نیت کا طریقہ
جو مسلمان نیند یا بھول جانے کی وجہ سے صبح کی نماز چھوڑ دے، شریعت اسے آسانی دیتی ہے کہ جاگنے یا یاد آنے پر نماز قضا کر لے۔ صبح کی قضا کی نیت: أُصَلِّي فَرْضَ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قَضَاءً للهِ تَعَالَى (اصلی فرض الصبح رکعتین مستقبل القبلہ قضاءً للہ تعالیٰ)، جس کا مطلب ہے 'میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے قبلہ رخ ہو کر صبح کی دو رکعت قضا کرنے کی نیت کی۔'
قضا کی حرکات اور ارکان عام صبح کی نماز جیسی ہی ہیں، یعنی دو رکعت۔ فرق صرف نیت میں ہے۔ آواز کی بلندی کے بارے میں، کچھ علما کا کہنا ہے کہ قضا کے وقت کا لحاظ ہو (دن میں آہستہ، رات میں بلند)، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ صبح کی نماز کی اصل صفت جہر (اونچی آواز) کے مطابق ہی رہے۔
قضا کی قانونی بنیاد حدیث میں ہے: 'جو شخص نیند یا بھول کی وجہ سے نماز چھوڑ دے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے۔ اس کے لیے اس کے سوا کوئی کفارہ نہیں۔' (بخاری)۔ قرآن کی سورہ الاسراء آیت 78 میں بھی صبح کی نماز کی حفاظت کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا جب وہ خیبر کی جنگ سے واپس آئے، تو آپ نے جاگنے کے بعد صبح کی نماز جماعت سے قضا کی۔
https://mozaik.inilah.com/ibad